|
کالم
|
|
Saturday, 14 November 2009 00:57 |
|
سعودی عرب کے سینئر علماءبورڈ کے رکن عبد اللہ بن محمد المطلق نے کہا ہے کہ اگر عازمین حج کو یہ خدشہ، ڈر یا خوف ہو کہ سنگ اسود کا بوسہ لینے سے انہیں سوائن فلو یا میکسیکن فلو لاحق ہوسکتا ہے تو ایسے افراد سنگ اسود کا بوسہ لینے سے گریز کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مناسک حج ملتوی نہیں کئے جاسکتے (کچھ علماءحضرات کا خیال ہے کہ امسال حج ملتوی یا روک دیا جائے) اور نہ ہی سنگ اسود کا بوسہ لینے سے عازمین کو روکا جاسکتا ہے۔ اس سوال پر کہ اگر عازمین یہ جانتے ہوئے کہ وہ علیل ہیں یا کسی وباءمیں مبتلا ہیں یا کسی چھوت بیماری کا شکار ہیں اور اسکے باوجود وہ سنگ اسود کا بوسہ لے رہے ہیں تو اس سلسلے میں آپ کا کیا لائحہ عمل ہوگا؟ عبد اللہ بن محمد المطلق نے کہا کہ عازمین کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ اپنا مرض یا بیماری دوسروں تک پھیلائیں۔ چونکہ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں اس لئے ایک بھائی جو اپنے لئے بہتر سمجھتا ہے وہی وہ دوسرے کیلئے بھی بہتر جانتا ہے۔ کوئی مسلمان یہ گوارہ نہیں کریگا کہ وہ اپنا مرض دوسروں تک پھیلائے۔ قبل ازیں سعودی حکام کی جانب سے عازمین حج کیلئے چند ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انہیں انتباہ کیا گیا ہے کہ عازمین ”مخالف جنس“ سے بات چیت نہ کریں، راستے بھولنے کی صورت میں ”مخالف جنس“ سے مدد طلب نہ کریں، خواتین کی تصویریں نہ لیں، مرد عازمین بسوں میں خواتین کے قریب نشست پر نہ بیٹھیں اور نہ ہی خواتین مردوں کے قریب بیٹھنے کی کوشش کریں۔ دوسری طرف سرکاری خبررساں ایجنسی منا کے مطابق سعودی وزارت صحت نے بچوں، حاملہ خواتین اور دائمی و دیرینہ امراض میں مبتلا یا سوائن فلو سے متاثرہ افراد کو حج اور عمرہ ادا نہ کرنے کا انتباہ کیا ہے۔ مصر نے سوائن فلو کے خطرے کے پیش نظر اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکہ اور مدینہ کا سفر اختیار نہ کریں۔ سعودی عرب کے شہروں مکہ اور مدینہ میں 25 لاکھ عازمین حج کی آمد متوقع ہے۔ ادھر سعودی حکام نے عازمین حج کو وارننگ دی ہے کہ انہیں دوران حج سیاسی مسائل اٹھانے کی اجازت نہیں ہوگی اور اگر کسی نے احکام کی پابندی نہ کی تو سخت ایکشن لیا جائیگا۔ اس سال سعودی حکام حرمین پہنچنے والے مسلمان ایرانی مذہبی رہنماءکی باتوں سے حد درجہ مضطرب و پریشان ہیں۔ انہوں نے عازمین کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”بیت اللہ کا حج کرنیوالے ان مسائل اور مشکلات سے ہرگز لاتعلق و بے پروائی اختیار نہ کریں جن مشکلات کا سامنا آج عالم اسلام کو بالخصوص عراق، افغانستان، فلسطین اور پاکستان کے ایک حصے کو ہے“۔ ایرانی آیت اللہ کی بات ایرانیوں کیلئے حکم کا درجہ رکھتی ہے۔ ان کی حیثیت کسی صحافی یا جمعہ کے خطیب جیسی نہیں ہوتی کہ ان کی بات ایک کان سے سنی جائے اور دوسرے کان سے اڑا دی جائے۔ ان باتوں پر ترکی کے وزیراعظم یا سعودی وزیر خارجہ کی جانب سے جو احتجاج کیا گیا ہے، ممکن ہے حکومت ایران اس کا یہ جواب دے کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے لیکن میرے حساب سے وہ اسی مظاہرے اور احتجاج کا سبق پڑھا رہے تھے جس نے 80ءکی دہائی میں اسلام کے ایک رکن حج کو گدلا کردیا تھا اور دنیائے اسلام کو پریشانیوں میں ڈال دیا تھا۔ حج کے موقع پر صرف ایک یہی پریشانی نہیں، عازمین حج کے اخراجات میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ عازمین حج کے فضائی کرایوں میں پہلے ہی اضافہ ہوچکا ہے۔ اب حرم کعبہ کے اطراف رہائش کیلئے رہائشی اخراجات میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔ مسجد الحرام کے اطراف گرین ایریا میں شیلٹرز کی شرح 2700 سعودی ریال سے بڑھا کر 3500 ریال کردی گئی ہے۔ دوسری رہائشی پٹی میں جسے وائٹ ایریا کہا جاتا ہے، رہائشی فیس 1600 ریال سے بڑھا کر 2500 ریال کردی گئی ہے۔ اسی طرح بیرونی احاطہ میں رہائشی فیس 1200 ریال سے بڑھا کر 1500 ریال کردی گئی ہے۔ چونکہ فضائی کرائے کے زمرے میں پٹرول کو جواز بنایا گیا ہے، اس لئے پٹرول کیساتھ حج بھی مہنگا ہوگیا ہے۔ اب حج کی بات چلی ہے تو کیوں نہ اپنے ذہنی خدشات، سوالات اور تحفظات کی بات بھی کرتا چلوں۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قرآن پاک اور اسلامی تعلیمات کو دیانتدارانہ طریقے پر ہم تک پہنچائیں، کیا وہ اپنے اس فرض کو ادا کرنے میں دیانتدار رہتے ہیں؟ یا انہوں نے خود کو ”دینی و مذہبی حکمران“ سمجھ کر مسلمانوں کو چرب زبانی کی لاٹھی سے پیٹ پیٹ کر ”سیدھا“ کرنے کی قسم کھالی ہے۔ وہ صرف اسلام اسلام کے ورق کوٹنے پر لگے ہوئے ہیں اور صحیح جواب دینے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ مذہب یا دین سے متعلق کسی سوال کا تشفی و تسلی بخش جواب دے سکیں۔ میرے ساتھ خود ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا۔ میں نے ایمسٹرڈیم میں مولانا طاہر القادری کو ایک اجتماع میں ایک تحریری سوالنامہ پیش کیا جو ان کے نائبین نے وصول کرکے مولانا کی خدمت میں پیش کیا۔ میرا پہلا سوال تھا کہ حج بدل کا حکم قرآن کریم کی کس آیت میں ہے؟ دوسرا سوال تھا کہ عیدالاضحی کے موقع پر جو قربانی مسلمان کرتے ہیں کیا مقامِ حج کے علاوہ یہ مسلمانوں پر فرض ہے؟ اگر یہ فرض ہے تو اسکا حکم غیرمقام حج کیلئے قرآن کی کس آیت سے ثابت ہے؟ حج بدل کا کوئی حکم میری نظر سے نہیں گزرا۔ یہ سلسلہ کیسے قائم ہوا اور کس نے ایجاد کیا، اس پر میں یہاں بحث نہیں کرونگا۔ صرف اتنا عرض کرونگا کہ مرنے کے بعد انسان کا عمل سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور اسکی کتابِ عمل بند کردی جاتی ہے اور قرآن کریم کا صاف اعلان ہے کہ کسی کا بوجھ کوئی دوسرا نہیں اٹھائیگا۔ کیا کوئی مفتیِ دین یا کوئی واعظ و شیخ تاریخ سے یہ ثابت کرسکتا ہے کہ کسی صحابہ نے حج بدل کیا ہو؟ یا حضور اور خلفاءراشدین کے زمانے میں مسلمانوں میں حج بدل کا رجحان قائم ہو؟ اسی طرح غیرمقام حج پر جانوروں کی قربانی کیسے واجب ہے؟ میں نے اس سلسلے میں قرآن کریم کا مطالعہ کیا ہے۔ مجھے اللہ کی بات میں کوئی حوالہ نہ ملا۔ پھر میں نے رسولِ خدا کی مقدس سوانح حیات کا مطالعہ کیا۔ میں نے کہیں یہ نہیں پایا کہ آپ نے ان ایام میں جب آپ نے حج ادا نہیں کیا، مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں قربانی کا فریضہ ادا کیا ہو۔ میں مانتا ہوں کہ دین کے معاملے میں ایک طالب علم ہوں یا دین کے معاملہ میں نابینا رہا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم میں وہ آیات مجھ کو نظر نہ آئی ہوں جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ قربانی دنیا کے ہر اہل زر مسلمان پر واجب ہے۔ قربانی سے متعلق قرآن میں سورة بقر کی آیت 196 سورة الحج کی آیت 34، 35، 36، 37 ہے جو حج سے ہی وابستہ ہے لیکن ان میں کہیں بھی کوئی ایسی بات درج نہیں جس سے میری تشفی ہوسکے۔ ہے کوئی دانشور علماءو مشائخ جو میری اس تشنگی کو قرآنی آیات کے حوالے سے بجھائے....؟
|