|
سریہ العنبر میں فقر کی حالت تحریر : مولانا محمد زکریا مرحوم  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں سمندر کے کنارے ایک لشکر تین سو آدمیوں کا جن پر حضرت ابو عبیدہؓ امیر بنائے گئے تھے، بھیجا، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تھیلی میں کھجوروں کا توشہ بھی ان کو دیا۔ پندرہ روز ان حضرات کا وہاں قیام رہا اور توشہ ختم ہو گیا۔ حضرت قیسؓ نے جو ان قافلہ میں تھے۔ مدینہ منورہ میں قیمت ادا کرنے کے وعدہ پر قافلہ والوں سے اونٹ خرید کر ذبح کرنا شروع کئے اور تین اونٹ روزانہ ذبح کرتے مگر تیسرے دن امیر قافلہ نے اس خیال سے کہ سواریاں ختم ہو گئیں تو واپسی بھی مشکل ہو جائیگی، ذبح کی ممانعت کی اور سب لوگوں کے پاس اپنی اپنی جو کچھ کھجوریں موجود تھیں جمع کر کے ایک تھیلی میں رکھ لیں اور ایک ایک کھجور روزانہ تقسیم فرما دیا کرتے جس کو چوس کر یہ حضرات پانی پی لیتے اور رات تک کیلئے یہی کھانا تھا کہنے کو مختصر سی بات ہے مگر لڑائی کے موقع پر جب کہ قوت اورط اقت کی بھی ضرورت ہو، ایک کھجور پر دن بھر گزار دینا دل و جگر کی بات ہے چنانچہ حضرت جائرؓ نے جب یہ قصہ لوگوں کو حضور کے بعد سنایا تو ایک شاگرد نے عرض کیا کہ حضرت ایک کھجور کیا کام دیتی ہو گی۔ آپ نے فرمایا، اس کی قدر جب معلوم ہوئی جب وہ بھی نہ رہی کہ اب بجز فاقہ کے کچھ نہ تھا۔ درخت کے خشک پتے جھاڑتے اور پانی میں بھگو کر کھا لیتے مجبوری سب کچھ کرا دیتی ہے اور ہر تنگی کے بعد اللہ تعالیٰ جل شانہ کے یہاں سے سہولت ہوتی ہے حق تعالیٰ نے ان تکلیف اور مشقتوں کے بعد سمندر میں سے ایک مچھلی ان لوگوں کو پہنچائی جس کو عنبر کہتے ہیں۔ اتنی بڑی تھی کہ اٹھارہ روز تک یہ حضرات اس میں سے کھاتے رہے اور مدینہ منورہ پہنچنے تک اس کا گوشت نوشوں میں ساتھ تھا حضور کے سامنے جب سفر کا مفصل قصہ سنایا گیا تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ یہ اللہ کا ایک رزق تھا جو تمہاری طرف بھیجا گیا۔ مشقت اور تکالیف اس دنیا میں ضروری ہے اور اللہ والوں کو خاص طور پر پیش آتی ہیں اسی وجہ سے حضور کا ارشاد ہے کہ انبیاءعلیہم الصلوہ و السلام کو سب سے زیادہ مشقت میں دکھا جاتا ہے پھر جو سب سے افضل ہوں، پھر ان کے بعد جو بقیہ میں افضل ہوں آدمی کی آزمائش اس کی دینی حیثیت کے موافق ہوتی ہے اور ہر مشقت کے بعد اللہ کی طرف سے اس کے لطف و فضل سے سہولت بھی عطا ہوتی ہے۔ یہ بھی غور کیا کریں کہ ہمارے بڑوں پر کیا کیا گذر چکا اور یہ سب دین ہی کی خاطر تھا۔ اس دین کے پھیلانے میں جس کو آج ہم اپنے ہاتھوں سے کھو رہے ہیں ان حضرات نے فاقے کئے پتے کھائے، اپنے خون بہائے اور اس کو پھیلایا جس کو ہم آج باقی بھی نہیں رکھ سکتے۔
|