|
والد ین کے حقوق تحریر: مولانا عبدالغفار حسن عمرپوری 226۔ ”ابواسیدؓ سے روایت ہے کہ ہم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ ایک آدمی نے دریافت کیا، والدین کی وات کے بعد کیا ان سے بھلائی کرنے کی کوئی ایسی شکل باقی رہ گئی ہے جسے میں انجام دے سکوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں چار باتیں ہو سکتی ہیں: (1) ان کے لئے دعا، و استغفار، (2) ان کے کیے ہوئے عہدہ (وعدہ)، وصیت کو پورا کرنا ۔ (3) ان کے دوستوں اور ملنے والوں سے احترام و تعظیم سے پیش آنا۔ (4) اور اس رشتہ کو ملانا جو ان کی طرف واسطہ سے تمہارے ساتھ تعلق رکھتا ہو۔“ یعنی چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ جیسے رشتوں کا پورا لحاظ رکھنا۔ 227۔ ”عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ کر ہجرت پربیعت کی غرض سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جا اور ان کو اسی طرح خوش کر کے آجس طرح کہ تو ان کو رلا کر آیا ہے۔“ تشریح: اگر والدین ضعیف اور اولاد کی مدد کے محتاط ہوں تو ایسی صورت میں والدین کی رفاقت اور ان کی خدمت ہجرت جیسے افضل عمل سے بھی بہتر ہے۔ 228۔ ”عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ سعدؓ بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر کے بارے میں دریافت کیا جو ان کی ماں نے مانی ہوئی تھی، وہ اس نذر کو پورا کرنے سے پہلے فوت ہو گئیں۔ آپ نے فرمایا: ان کی طرف سے نذر پوری کر دو۔“ صلہ رحمی 229۔(”بروایت بکارعن ابیہ عن جدہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس گناہ کو چاہتا ہے (سزا کے واسطے) قیامت تک کے لئے مو خر کر دیتا ہے، ہاں تین قسم کے گناہ ایسے ہیں جن کی سزا انسان کو موت سے قبل ہی بھگتنی پڑتی ہے: (1)بغاوت، سرکشی۔ (2) والدین کی نافرمانی، (3) قطع رحم“ شوہر کی اطاعت 230۔ ”(بروایت ابوسعیدؓ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے۔“ تشریح: اس حدیث میں نفلی روزہ مراد ہے۔ فرض روزہ تو عورت کو اپنے شوہر کی مرضی کے علی الرغم بھی رکھنا چاہیے۔ جیسا کہ دوسری حدیث میں ہے۔ ”خالق کی نافرمانی کی صورت میں مخلوق کی اطاعت نہیں ہو سکتی۔“ لیکن نفلی روزہ شوہر کی اجازت کے بغیر نہیں رکھا جا سکتا۔ نیک بیوی 231۔”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت سے نکاح چار چیزوں کیلئے کیاجاتا ہے، (1) مال، (2) حسن و جمال، (3) خاندانی شرف۔ (4) دین۔“ آپ نے فرمایا: دین والی کو اختیار کرو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہو۔ (یعنی خوش و خرم رہو۔“) 232۔”حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے : ” دنیا ساری کی ساری متاع (فائدہ اٹھانے کا سامان) ہے، اور دنیا کی بہترین متاع نیک کردار خاتون ہے۔“ تشریح: یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان خواہ کتنا ہی متقی اور پارسا کیوں نہ ہو اگر اس کی بیوی نیک سیرت نہیں ہے تو وہ کبھی بھی اس دنیا میں سکون و اطمینان سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ صلح رشتہ کی اہمیت 233۔ ”حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس نکاح کا پیغام بھیجے جس کے دین و اخلاق کو تم پسند رکھتے ہو تو اس سے شادی کر دو۔ اگر تم ایسا نہ کرو گے تو فتنہ و فساد برپا ہو گا۔“ تشریح: برادری اور رسم و رواج کی پابندیوں کی بنا پر موزوں رشتے کو رد کر دینا یا ٹالتے رہنا، زیادہ تر سوسائٹی میں شدید فتنہ کا موجب بن جاتا ہے۔ اس لیے حدیث میں اس کو فساد عریض سے تعبیر کیا گیا ہے۔
|