|
ابونصر محمد فارابی یہ ابوالحسن علی سیف الدولہ حمدانی کا دربارہے یہ شاہ حلب سیف الدولہ کا دربارہے اور دربار میں ترکی وضع رکھنے والا وہ بوڑھا معمولی قبا پہنے اور کھچڑی بالوں پر ٹوپی رکھے عجیب زاہدانہ شان کے ساتھ آیا اورا یک طرف کھڑا ہو گیا ۔ سیف الدولہ کچھ دیر کی طرف دیکھتا رہا۔ اس سے مخاطب ہوا اور کہا کہ ”بیٹھ جاﺅ“۔ ”کہاں؟ .... جہاں میں ہوں یا جہاں تم ہو۔“ ”جہاں تم ہو“ سیف الدولہ نے کہا۔ پس وہ پست قد بوڑھا اس دربار میں جہاں وزراءاور غلاموں کے ساتھ ساتھ علماءفضلاءاور حکماءکا بھی ہجوم تھا، صف کو چیرتا ہوا آگے بڑھا اور اس نے سیف الدولہ کو اس کی مسند سے پرے ہٹانے کی کوشش کی۔ شاید وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ پھر میرا اصل مقام تو یہی ہے یہ دلچسپ روایت مولانا عبدالسلام ندوی نے ابن خلکان کے حوالے سے اپنی کتاب ”حکمائے اسلام“ میں حکمائے قدیم کی سی شان رکھنے والے اس فارابی کے باب میں نقل کی ہے جسے تاریخ ارسطوئے ثانی اورمعلم ثانی کے نام سے بھی پہنچاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک اچھے دن موسم کا لطف اٹھاتے ہوئے خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے سرپر سے بادل کے ایک ٹکڑے کو بن بر سے گزرتے دیکھ کر خوش دلی سے کہا کہ تو کہیں بھی چلا جا، بر سے گامیری سلطنت کے اندر ہی.... لیکن وہ اچھے دن اب گزر چکے تھے۔ خلیفہ متوکل کے قتل کے بعد سلطنت عباسیہ نے زوال کے راستے پر قدم رکھ دیا تھا۔ وہ جنگجو، اجڈ اور غیر تربیت یافتہ ترک جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اورجنہیں خلیفہ معتظم نے سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے کثیر تعداد میں فوج میں بھرتی کیا تھا، اپنی فطری دلیری کی بناءپر فوجی نظام پر چھا گئے تھے۔ متوکل کے قتل کے بعد انکا اثر و رسوخ اور بڑھ گیا۔ انہوں نے کئی خلفاءکو تخت سے اتارا اور بعض کو قتل بھی کیا۔ متوکل کے بعد آٹھ سال کی مختصر مدت میں چار خلفاتخت پر بٹھائے اور اتارے گئے۔ انہوں نے مضبوط مرکز کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ایی صورتحال میں یہ بات غیر متوقع نہیں ہوتی کہ صوبے دار اپنی اپنی خود مختاری حکومتیں قائم کرلیں اور یہی ہوا۔ مختلف صوبوں کے امیروں نے آزاد حکومتوںکا اعلان کر دیا جو مرکزی عباسی خلیفہ کو تسلیم تو کرتی تھیں اور ان کی مسجدوں میں عباسی خلیفہ کے نام کا خطبہ بھی پڑھا جاتا تھا۔ لیکن عباسی خلیفہ کا کوئی حکم نہیں چلتا تھا۔ ایسی ہی ایک سلطنت آل حمد ان کے عربوں نے شام میں قائم کی۔ پہلے اس کا مرکز موصل تھا جسے بعد میں حلب سے بدل دیا گیا۔ آل حمدان میں سب سے معروف سیف الدولہ حمدانی ہے۔ سیف الدولہ نے 944ءتا 967ءحکمرانی کی۔ وہ نہایت سیف الدولہ علم و ادب کا قدر دان تھا۔ کہا جاتا ہے کہ خلفاءکے بعد کسی بادشاہ کے دربار میں اس سے زیادہ علماءحکماءاور شعراءکا مجمع نہیں ہوا۔ وہ خود بھی نہایت عمدہ شعر کہتا تھا اور عربی کے سب سے بڑے شاعر متنبی کا خاص طورپر ممدوح تھا۔ فارابی زندگی کے آخری برسوں میں اس کے دربار سے وابستہ رہا اور سیف الدولہ نے اس کی قدر دانی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ پیشہ سپہ گری سے تعلق رکھنے والے ایرانی النسل سپہ سالار محمد بن طرخان کے گھر جنم لینے والا ابونصر محمد بن محمد اور زلخ بن طرخان ترکستان کے شہر فاراب کے قلعہ بند قصبے وسیج میں پیدا ہوا۔ اسی لیے ترک کہلایا۔ تمام مورخین اس بات پر متفق ہیں لیکن منک کا خیال ہے کہ اس کا خاندان ماوراءالنہر کے شہر اطرار میں قیام پذیر تھا۔ اس کی تاریخ پیدائش حتمی طور پر معلوم نہیں ہے۔ لیکن قیاس کیا جاتا ہے کہ تخمینا اسی سال عمر پانے والے فارابی کی تاریخ پیدائش 870ءہے۔ اس نے آبائی پیشہ سپہ گری کی خیر باد کہا اور فکر و فلسفہ کے میدان کو اپنے لیے چنا۔ محترم محمد کاظم صاحب نے اپنی کتاب ”مسلم فکر و فلسفہ بہ عہد“ میں فارابی کی زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ فارابی نے اپنی زندگی کے ابتدائی پچاس سال فاراب ہی میں گزارے اور یہیں تعلیم حاصل کی۔ مزید علم حاصل کرنے کے شوق میں اس نے اپنے وطن کو چھوڑ ا اور مزید بیس سال بغداد میں قیام کیا۔ یہاں وہ وقت کے بڑے فلسفی بشرمتا ابن یوسف کے حلقے میں پہنچا اور منطق کی تعلیم حاصل کی۔ محمد کاظم صاحب کی یہ بات قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی۔ محمد لطفی جمعہ نے اپنی کتاب ”تاریخ فلا سفة الاسلام“ میں زیادہ حتمی بات لکھی ہے جو قرین قیاس بھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”فارابی کی زندگی کے متعلق اتنی بات یقینی ہے کہ اس نے بچپن ہی میں اپنے شہر کو چھوڑ کربغداد کا رخ کیاجو عباسیوں کے عہد میں علم اورم نیت کامرکز تھا اور وہاں تعلیم حاصل کی“ فارابی کے عہد میں فلسفہ و منطق کے حوالے سے دو نام نہایت اہم ہیں۔ ایک ابراہیم مروزی اور دوسرے یوحنا بن حیلان۔ یہ دونوں بغداد میں موجود تھے۔ جہاں متی بن یونان نے ابراہیم مروزی سے تعلیم حاصل کی۔ مولانا عبدالسلام ندوی نے اپنی کتاب ”حکمائے اسلام“ (حصہ اول) میں لکھا ہے کہ فارابی کے زمانے میں فلسفیانہ تعلیم کا جو سلسلہ جاری تھا، اس کی آخری کڑی متی بن یونان اوریوحنا بن حیلان تھے اور فارابی نے ان دونوں سے تعلیم حاصل کی۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ متی بن یونان کانام اخبار الحکماءقفطی میں ابوبشیر متی بن یونس، ابن خلکان میں ابوبشر متی یونس اور تاریخ الحکماءشہرزوری میں صرف متی بن یونس لکھا ہے (محترم محمد کاظم نے یہ نام بشر متاابن یوسف درج کیا ہے) بہر حال متی بن یونان ایک عیسائی حکیم تھا جو ارسطو کی کتابوں کی شریح کرتا تھا۔ وہ بغداد میں علم منطق کی تعلیم بھی دیا کرتا تھا۔ اور اس فن میں یکتا تھا۔ وہ ارسطو کی ”کتاب المنطق“ کا درس دیتا تھا۔ فارابی بھی یہیں اس کے وسیع حلقہ درس میں شامل ہوا۔ یوحنا حیلان بھی ایک عیسائی حکیم تھا جس کا ذکر تذکرہ نویسوں نے کم ہی کیا ہے، یہاں تک کہ اس کے نام کے بارے میں بھی ابہام ہے۔ ’طبقات الاطبائ“ میں اس کا نام یوحنا بن حیلان، اخبار الحکماءقفطی میں یونابن جیلاد اور ابن خلکان میں یوحنا بن خیلان لکھا ہے۔ محمد لطفی جمعہ نے ابوبشر متی کو فارابی کا ہم درس لکھا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ شخص فارابی کا ہم عصر لیکن اس سے معمر شخص تھا۔ یہی بات ڈی بوئر نے بھی اپنی کتاب ”تاریخ فلسفہ اسلام“ میں کوٹ کی ہے۔ ممکن ہے فارابی نے اس سے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان اساتذہ سے بھی استفادہ کیا ہو جن سے متی بن یونان نے اکتساب فیض کیا۔ محمد لطفی جمع کے مطابق ہی: ”وہ ان طالبان علم میں سے نہیں تھا جو ایک استاد پر اکتفا کرتے ہیں۔“ یہ بات اللہ جانے کس طرح تذکروں میں راہ پا گئی ہے کہ فارابی ستر سے زیادہ زبانیں جانتا تھا۔ لیکن اس کے تمام محتاط سوانح نگار اس بات پر متفق ہیں کہ وہ اس زمانے کی کم از کم پانچ زبانیں.... عربی، فارسی، ترکی، یونانی اور سریانی.... تو ضرور جانتا تھا۔ تقریباً ستر سال کی عمر میں اور غالباً بغداد میں سیاسی شور شوں کی وجہ سے اس نے بغداد سے دمشق کی راہ لی جہاں اس کے ابتدائی قیام کا زمانہ نہایت تنگدستی اور عسرت میں بسر ہوا۔زندگی گزارنے کیلئے ذریعہ معاش کی ضرورت تھی۔ پس وہ شریف النفس فارابی، جو بیک وقت مملکت عقل کا حکمران بھی تھا اور مفلوک الحال سادہ منش درویش بھی، تلاش معاش میں ایک باغ کار کھوالا مقرر ہوا۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ چراغ تک میسر نہ تھا اور فلسفے کی تعلیم و تصنیف سے محبت کا یہ عالم تھا کہ چین سے بیٹھنے نہ دیتا تھا۔ سو وہ راتوں کی فراغت میں پہرہ داروں کی قندیلوں کیروشنی میں مطالعہ و تصنیف کے شوق کو پورا کرتا تھا۔ بالآ خریہ دن ختم ہوئے اور اس کے فضل و کمال کی شہرت سیف الدولہ کے دربار تک پہنچی جہاں ایسے نادر روز گار لوگوں کی بہت قدر تھی۔ (جاری ہے)
|