|
انفرادی حقوق مرتبہ: عظمان عمر  اسلام پوری انسانیت کےلئے رحمت بن کر آیا۔ حضور نبی اکرم نے انسانیت کو اسلام کی آفاقی تعلیمات عطا کر کے ہر نوع کی غلامی، جبر اور استحصال سے آزاد کر دیا۔ انسانیت پر آپ کے اس احسان اور منصب نبوت کے اس پہلو کا تذکرہ قرآن حکیم نے یوں کیا: ”اور (یہ رسول گرامی) اہل ایمان پر سے انکے بار گراں اور طوق (قیود) جوان پر (مسلط) تھے، ساقط فرماتے اور انہیں نعمت آزادی سے بہرہ یاب کرتے ہیں۔“ آپ کی شان کا فیضان انفرادی و اجتماعی دونوں سطح پر روبہ عمل ہوا۔ انفرادی سطح پر اسلام نے افراد معاشرہ کو وہ حقوق عطا کئے جن کا شعور انسانیت آج حاصل کر رہی ہے۔ آپ کے عطا کردہ نمایاں انفرادی حقوق یہ ہیں۔ 1۔ زندگی کے تحفظ کا حق 2۔ انسانی جان کی حرمت کا حق 3۔ رحم مادر میں جنین کا حق 4۔ عزت کا حق 5۔عزت کی حفاظت کا حق 6۔ نجی زندگی کے تحفظ کا حق 7۔ شخصی رازداری کا حق 8۔سلامتی کا حق 9۔سماجی مساوات کا حق 10۔ قانونی مساوات کا حق 11۔ حصول انصاف کا حق 12۔ آزادانہ سماعت کا حق 13۔ دوسروں کے جرائم سے برات کا حق 14۔ صفائی پیش کرنے کا حق 15 ۔آزادی کا حق 16۔ شخصی آزادی کا حق 17 مذہبی آزادی کا حق 18۔ اظہار رائے کی آزادی کا حق 19۔ مریض کا حق 20۔ طبی سہولیات کی فراہمی کا حق 21۔ ملکیت کا حق 22۔ بنیادی ضروریات کی کفالت کا حق 23۔ تعلیم کا حق 24۔ معاہدہ کرنے کا حق 25۔ازدواجی زندگی کا حق 26۔ خاندان کے قیام کا حق 27۔ میت کا حق 1 ۔ زندگی کے تحفظ کا حق زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ عظیم نعمت ہے اور کسی بھی معاشرہ اور ریاست کی طرف سے فرد کو دئیے جانے جملہ حقوق زندگی پر ہی منحصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میںزندگی کے تحفظ کا حق اساسی نوعیت رکھتا ہے اور اسلام نے انسانی زندگی کے تقدس پر بہت زور دیا ہے۔ قرآن حکیم نے بے شمار مقامات پر انسانی زندگی کی اہمیت اور تقدس بیان کیا ہے۔ ”جو کوئی (نفس کی خواہش کے ضمن) میں کسی کو مار ڈالے، سوائے (جان کے بدلے جان) قصاص کے یا ملک میں فساد پھیلانے کے ۔ تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کیا اور جس نے کسی جان کو قتل سے بچایا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو بچا لیا۔“ اس آیت مبارکہ میں انسانی زندگی کے قدر و قیمت کو بیان کیا گیا ہے اور قرآن حکیم کے نزدیک انسانی زندگی کے تقدس کا یہ عالم ہے کہ ایک آدمی کا قتل پوری انسانیت کے قتل اور ایک فرد کی زندگی کا تحفظ پوری انسانیت کے تحفظ کے مترادف گردانا گیا ہے۔ حضور اکرم نے بھی اپنے آخری تاریخی خطبہ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ اہل ایمان کی جان و مال اور عزت ایک دوسرے کیلئے اتنی ہی مقدس ہے جتنا کہ حجتہ الوداع، اسلام کے نزدیک کسی بھی شخص کو قتل کرنا انتہائی قبیح ترین جرم ہے الا یہ کہ وہ قتل کسی انسانی جان کے بدلے میں ہی کیا جائے کیونکہ قاتل کو زندگی کی امان دینے کا مطلب معاشرے میں بدامنی، بغاوت اور اللہ کے قانون سے سرکشی کے رجحانات کو راہ دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے قتل کے جرم کے خاتمہ کیلئے قصاص کا قانون دیا ہے۔ انسانی جان کی حرمت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اور مفلسی کی وجہ سے (یا مفلسی کے ڈر سے) اپنی اولاد کو نہ مار ڈالو۔ ہم تم کو بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی۔“ ”اور جس جان کو اللہ نے حرام کر دیا تم اس کو بجز حق کے مت مار ڈالو (یعنی سوائے اس کے کہ یہ جان لینا حق ہو جیسے قصاص وغیرہ) یہ وہ باتیں ہیں جن کا (اللہ نے) تم کو حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔“ ”اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے مت مار ڈالو۔ (کیونکہ) ہم ہی ان کو روزی دیتے ہیں اور تم کو بھی بے شک ان کو مار ڈالنا بہت بڑا گناہ ہے۔“ ”اور جس جان کو اللہ نے (قتل سے) سے منع فرما دیا۔ اسے مت مارو مگر جائز طور پر (کہ شرعاً تم مجبور ہو جاﺅ کہ وہ قاتل ہو یا مرتد وغیرہ) اور جو کوئی ناحق مارا جائے۔ تو ہم نے اس کے وارثوں کو حق دیا ہے۔ (کہ قتل کا بدلہ طلب کریں) لیکن قتل کرنے (یعنی قصاص لینے) میں حد سے تجاوز نہ کریں۔ بے شک اس کو (اللہ اور اس کے نیک بندوںکی مدد حاصل ہے۔ “ ”اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق ناجائز طور پر نہ کھاﺅ ہاں اگر تمہاری باہمی رضا مندی سے تجارت ہو (تو کوئی مضائقہ نہیں) اور آپس میں خونریزی نہ کرو۔ (کہ نفس پرستی اور مال و دولت پر ناجائز قبضہ کرنے کا یہ بہت ہی برا طریقہ ہے اور اللہ تم کو یہ اس لئے بتایا ہے کہ) بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔“ اسلام نہ صرف قتل کی ممانعت کرتا ہے بلکہ خودکشی کو بھی اتنا ہی برا عمل تصور کرتا ہے۔ زندگی کے تحفظ کے حق میں اپنے آپ کو کسی حملہ سے بچانے کا حق بھی شامل ہے۔ اسلام نہ صرف زندگی کو درپیش خطرات سے بچنے کا حق دیتا ہے بلکہ خطرے سے خلاف اقدام کا حق بھی دیتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔ ”پس اگر تم پر کوئی زیادتی کرے تم بھی اس پر زیادتی کرو مگر اسی قدر جتنی اس نے تم پر کی۔“ اسلام کا عطا کردہ حق تحفظ زندگی مطلق نہیں ہے بلکہ جب اسلامی ریاست خطرات سے دو چار ہو تو اہل ایمان اسلامی ریاست کو ان خطرات سے نجات دلائیں گے چاہے انہیں اس کی قیمت اپنی زندگی کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔ ارشاد ربانی ہے۔ ”اور اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔“ دوسرے مقام پر ارشاد ہے: ”بے شک مومن (تو) وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر (دل و جان سے) ایمان لاتے ہیں پھر (اس میں ذرا) شک نہیں کرتے اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرتے ہیں یہی لوگ سچے (اور پکے مسلمان) ہیں (ان کا منتہائے نظر منزل صدق ہے ان میں سب سے بڑے کام صدیق ہے)۔“ حق زندگی اور سزائے موت اسلام نے معاشرے سے مختلف جرائم کے قلع قمع کیلئے سزائے موت بھی تجویز کی ہے۔ جو کسی طور بھی انسان کے حق زندگی سے متصادم نہیں کیونکہ سزائے موت کے نفاذ کا مقصد ان محرکات کا خاتمہ ہے جو معاشرے میں کئی افراد کی زندگی کو خطرے سے دو چار کر سکتے ہیں۔ تاہم مغرب میں سزائے موت کا تصورت مختلف ہے۔ سزائے موت کی تنسیخ کی حوصلہ افزائی کے باب میں 1969 کے The Amercian Convention of Human Rights نے ان ملکوں میں جہاں سزائے موت پہلے ہی ختم کی جا چکی ہے اسے دوبار قائم کرنے سے منع کر دیا ہے۔ ماسوائے دیگر بین الاقوامی معاہداتی قوانین قانونی جسمانی سزا کو جو عدالت مجاز نے قانون کے مطابق دی ہو، ظامانہ، غیر انسانی اور ہتک آمیز تصور نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر 1966ءکا The International Covnant on CIvil and Political Rights سزائے بامشقت کی اجازت دیتا ہے۔ اس لیے بادی النظر میں تصور سزائے جسمانی اور ظالمانہ سلوک کے درمیان کیا فرق ہے۔ 1975ءکے Declaration on the protection of all persons from degrading treatment or punishment میں خصوصیت کے ساتھ اس کا کوئی تعین نہیں کیا گیا یعنی درد ناک سزا اور اس نوع کے ظالمانہ رویوں کے امتناع کا ذکرDeclaration on the protection of all persons from degrading treatment or punishment, 1975 کے ابتدائیہ میں بحوالہ United Nations Charter, 1945 کے آرٹیکل 55 اور آرٹیکل 7 میں کیا گیا ہے لیکن یہ آرٹیکلز سزا کی نوعیت اور ظامانہ سلوک کے بارے میں خاموش ہیں جبکہ Universal Declaration of Human Rights, 1948 کے آرٹیکل 5 ظالمانہ سلوک اور سزا ان دونوں تصورات میں کوئی فرق اور امتیاز نہیں کرتا۔ تاہم وہ سزا ظالمانہ، غیر انسانی یا ہتک آمیز تصور کی جا سکتی ہے جب وہ ماورائے قانون ہو۔ اس کے برعکس جب کسی مجرم کو قانون میں جتنی گنجائش ہے اس سے سزا زیادتی دی جاتی ہے تو یہ صورت حال اسے عدم انصاف سے دو چار کر دیتی ہے۔ لہٰذا یہ بات طے شدہ سمجھی جائے کہ وہ سزا جو کردہ جرم کی مناسبت سے دی جائے وہ ظالمانہ، غیر انسانی اور ہتک آمیز نہیں تصور کی جا سکتی۔ نتیجتاً Declaration on the Protection of all Persons from Degrading Treatment or Universal Declaration of Human اور Punishment, 1975 Rights,1948 کو ظامانہ سلوک اورقانونی سزا کے تصور کے درمیان واضح فرق اور تمیز کی بنیاد پر ترمیم کے عمل سے گزارنا چاہئے۔ یہ فطری ضرورت کا معاملہ ہے کہ عوامی مفاد کو محفوظ کرنے کیلئے (جو قانون کا بنیادی مقصد ہے) ان قوانین کی متعلقہ شقوں کو بڑھا کر لوگوں کے سیاسی حقوق تک لے جایا جائے اور وہ اپنی حکومتوں کو زیادہ جمہوریت اور انسانی حقوق دینے کی ترغیب دیں۔ متعدد ممالک میں سزائے موت اور قید با مشقت اب بھی رائج ہیں باوجود اس کے کہ یہ سزائیں شدید ذہنی تکلیف اور جسمانی اذیت کاباعث بنتی ہیں۔ قیدوں سے متعلق کم از کم معیاری ضابطے ابھی اتنے مو ثر نہیں کہ ان سے سزاﺅں کی شدت میں تخفیف ہو سکے۔ پھر یہ ضابطے معاشرے کے تحفظ کیلئے ضروری اور مناسب اقدام کے پیش نظر حقیقت پسندانہ بھی نہیں۔چنانچہ جن ملکوں میں جسمانی سزاﺅں کا خاتمہ ہوا ہے وہاں جرائم میں بتدریج اضافہ اس پر شاہد ہے۔ چونکہ بڑھتے ہوئے جرائم سے اجتماعی عوامی سلامتی کو سنگین خطرہ ہے لوگوں کے پاس اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ یا تو حوصلہ شکن سزاﺅں کے نفاذ کا مطالبہ کریں یا پھر مجرموں کو معاشرے کا امن و امان برباد کرنے کی کھلی چھٹی دے دیں۔ اس عذر کی بناءپر بہت سے ممالک میں موت اور قید با مشقت کی سزاﺅں کے خاتمے میں ہچکچاہٹ قابل فہم ہے اور اس کا جواز موجود ہے۔ چونکہ قانونی نظام کا مطمح نظر عوامی مفاد کو ترجیح دینا ہے اس لیے اسے ظالمانہ قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ انسانیت نوازی اور جذبہ رحم کو قانون سے ہم آہنگ کرنا ایک ترجیحی مسئلہ ہے۔ تاہم بین الاقوامی معاہدات اور قوانین کی رو سے انسانی زندگی کی بقاءکیلئے چند حفاظتی اقدامات فراہم کئے گئے ہیں۔ ۱۔ سزائے موت کا امتناع: ان افراد پر جن کی عمر جرم کے ارتکاب کے وقت اٹھارہ سال سے کم تھی۔ اس میں اس فرد کو رعایت نابالغ ہونے کی حیثیت سے اور قانونی نا اہلیت کے اعتراف کے طور پر دی گئی ہے اسی طرح حاملہ خواتین کو بھی موت کی سزا نہ دی جائے جس سے جنین کی زندگی کا تحفظ مقصود ہے۔ ستر سال سے زیادہ معمر افراد کو بھی اس سے مستثنیٰ رکھاجائے۔ ۲۔ اسی طرح، اسقاط حمل،اور، بانجھ کاری کی حیثیت کا تعین کرنا بھی باقی ہے کہ آیا یہ بھی بالا رادہ اور بالقصد زندگی سے محروم کرنے کے عمل متصور ہوتے ہیں یا نہیں؟ اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بین الامریکی کمیشن برائے حقوق انسانی ( Inter American Commission of Human Rights) کے نزدیک آبادی کے بے تحاشا اضافے کی وجہ سے معاشی اور روزگار کے مسائل پر قابو پانے کیلئے اسقاط حمل کا استعمال انسانی حقوق کی واضح اور سنگین خلاف ورزی ہے۔ قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ”اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو ہم ہی انہیں روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی۔ بیشک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔“ مذکورہ بالا امریکی کمیشن ( Inter American Commission of Human Rights) کی رائے تحفظ تولید کے اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہے جو ایک طرح سے نسل انسانی کی بقاءاور انسان کے حق زندگی پر دلالت کرتے ہیں جس کے پیش نظر اسقاط حمل کو بالعمول ممنوع قرار دیا ہے۔ اگرچہ یورپی کمیشن برائے حقوق انسانی (European Commission of Human Rights) یاEuropean Convention for the protection of human rights, 1950 اپنے آرٹیکل نمبر۲ کے حوال سے یہ تصور کرتا ہے کہ اسقاط حمل کے امتناع کا قانون اس حد کے تابع ہے کہ ماں کی زندگی اور صحت کو بچانے کیلئے حمل ختم کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یورپی کمیشن برائے حقوق انسانی (European Commission of Human Rights) کی رائے میں بانجھ کاری کیلئے کئے گئے آپریشن کو بعض مخصوص حالات میں حق زندگی کی خلاف ورزی پر محمول کیا جائیگا۔ ۳۔ اسلامی قانون نے گزشتہ چودہ صدیوں سے آسان موت یا سہل مرگی کے سوال پر جو امتناعی پابندی لگائی ہے اس پر ابھی تک کسی بین الاقوامی معاہدے میں کوئی قانونی رائے زنی نہیں کی گئی۔ چونکہ اسلامی قانون خودکشی سے منع کرتا ہے اس لیے کسی کہ یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے کو بھی حکم دے کہ مجھے مار ڈالو۔ بصورت دیگر جب بھی ایسے جرم کا ارتکاب ہو گا تو وہ شخص مجرم گردانا جائیگا اور قاتل کی حیثیت سے مستوجب سزا ہو گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ”اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو۔“ اضطراری حالت میں زندگی کے تحفظ کا حق اسلام دید بھوک اور پیاس کی حالت میں زندگی بچانے کیلئے کیے گئے ایسے اقدامات پر گرفت نہیں کرتا جو عام حالات میں قابل گرفت ہوں۔ حضرت سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں: ”حضرت عمرؓ کے پاس ایک عورت لائی گئی جسے صحرا میں جبکہ وہ شدید پیاسی تھی، ایک چرواہا ملا۔ عورت نے اس سے پانی مانگا۔ اس نے اسے پانی دینے سے انکار کیا، سوائے اس صورت کے کہ وہ اسے اجازت دے کر وہ اس کے ساتھ بدکاری کرے۔ عورت نے اسے اللہ کا واسطہ دیا مگر وہ نہیں مانا جب اس عورت کی قوت برداشت جواب دے گئی تو اس نے اس شخص کو اپنے آپ پر قدرت دے دی۔ حضرت عمرؓ نے اضطرار کی اس حالت کی بناءپر اس عورت سے حد ساقط کر دی۔“ اسی طرح حاطب بن ابی بلتعہ کے غلاموں نے مزینہ کے ایک شخص کی اونٹنی چرالی تھی تو حضرت عمرؓ نے ان کا ہاتھ نہیں کاٹا، کیونکہ انہوں نے شدید بھوک سے مجبور ہو کر یہ اونٹنی چرائی تھی۔ اسی طرح حضرت عمرؓ نے قحط سالی کے زمانے میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی اور فرمایا کہ ہم قحط سالی اور سختی کے دنوں میں قطع یدکی سزا نہیں دیں گے۔ عبدالملک بن قدامہ جحمی روایت کرتے ہیں کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا۔ ”کہ ایک شخص رسی باندھ کر (کنویں میں)لٹکا، تاکہ شہد اتارے۔ اسی حالت میں اس کی بیوی آئی اور اس سے کہا کہ یا تو تو مجھے طلاق دے دے یا میں یہ رسی کاٹ دیتی ہوں۔ حضرت عمرؓ نے اس سے کہا کہ اپنی بیوی کے پاس لوٹ جاﺅ کیونکہ یہ طلاق نہیں ہوئی۔“ اسی طرح ایک اور روایت میں ہے۔ ”حضرت عمرؓ کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے اعتراف جرم کر لیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا میرے خیال میں اس شخص کے ہاتھ چور کے ہاتھ نہیں ہیں۔ اس پر وہ شخص بولا قسم بخدا میں سارق نہیں ہوں، دراصل انہوں نے ڈرا دھمکا کر مجھ سے اعتراف کروالیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اسے چھوڑ دیا اور قطع ید کی سزا نہیں دی۔“
|