|
بند وں کے حقوق: 2 تحریر: سید ابو الاعلیٰ مودودی مرحوم  1۔ جن مردوں اور عورتوں کی فطرتا ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر رہنا پڑتا ہے ان کو ایک دوسرے کیلئے حرام کر دیا ہے مثلاً ماں اور بیٹا، باپ اور بیٹی، سوتیلی بیٹی اور سوتیلا باپ، سوتیلی ماں اور سوتیلا بیٹا، بھائی اور بہن، دودھ شریک بھائی اور بہن، چچا اور بھتیجی، پھوپھی اور بھتیجا، ماموں اور بھانجی،خالہ اور بھانجا، ساس اور داماد، خسر اوربہو، ان سب رشتوں کو حرام کرنے کے بعد شمار فائدہ میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ ایسے مرد اور عورتوں کے تعلقات نہایت پاک رہتے ہیں اور وہ خالص محبت کے ساتھ بے لوث اور بے تکلف ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔ 2۔ حرام رشتوں کے علاوہ کنبے کے دوسرے مردوں اور عورتوں کے درمیان شادی بیاہ کو جائز قرار دیا گیا تاکہ آپس کے تعلقات اورزیادہ بڑھیں۔ جو لوگ ایک دوسرے کی عادتوں اور خصلتوں سے واقف ہوتے ہیں ان کے درمیان شادی بیاہ کا تعلق زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔ اجنبی گھرانوں میں جوڑ لگانے سے اکثر ناواقفیت کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی لیے اسلام میں کف والے کو غیر کف پر ترجیح دی گئی ہے۔ 3۔ کنبے میں غریب اور امیر، خوشحالی اوربد حال سب ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ ہر شخص پر سب سے زیادہ حق اس کے رشتہ داروں کا ہے۔ اس کا نام شریعت میں صلہ رحمی ہے جس کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ رشتہ داروں سے بے وفائی کرنے کو قطع رحمی کہتے ہیں اور یہ اسلام میں بہت بڑا گناہ ہے۔ کوئی قرابت دار مفلس ہو یا اس پر کوئی مصیبت آئے تو خوشحال عزیزوں کا فرض ہے کہ اس کی مدد کریں۔ صدقہ خیرات میں بھی خاص طور پر رشتہ داروں کا حق کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔ 4۔ وراثت کا قانون بھی اس طرح بنایا گیا ہے کہ جو شخص کچھ مال چھوڑ کر مرے، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ، بہر حال وہ ایک جگہ سمٹ کر نہ رہ جائے بلکہ اس کے رشتہ داروں کو تھوڑا یا بہت حصہ پہنچ جائے۔ بیٹا، بیٹی، بیوی، شوہر، ماں، باپ، بھائی، بہن، انسان کے سب سے زیادہ قریبی حق دار ہیں۔ اس لیے وراثت میں پہلے ان ہی کے حصے مقرر کیے گئے ہیں یہ اگر نہ ہو تو ان کے بعد جو رشتہ دار قریب تر ہوں ان کو حصہ پہنچتا ہے اور اس طرح ایک شخص کے مرنے کے بعد اس کو چھوڑی ہوئی دولت بہت سے عزیزوں کے کام آتی ہے۔ اسلام کا یہ قانون دنیا میں بینظیر قانون ہے اور اب دوسری قومیں بھی اس کی نقل کر رہی ہیں۔ مگر افسوس کہ مسلمان اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے اکثر اس قانون کی خلاف ورز ی کرنے لگے ہیں۔ خصوصاً لڑکیوں کا حصہ نہ دینے کی رسم پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں میں بہت پھیلی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور قرآن کی صریح احکام کی مخالفت ہے۔ خاندان کے بعد انسان کے تعلقات اپنے دوستوں، ہمسایوں، اہل محلہ، اہل شہر اور ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جن سے اس کو کسی نہ کسی طرح کے معاملات پیش آتے ہیں ۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ ان سب کے ساتھ راستبازی، انصاف اور حسن اخلاق برتو، کسی کو تکلیف نہ پنچاﺅ، کسی کی دل آزاری نہ کرو۔فحش گوئی اوربدکلامی سے بچو۔ ایک دوسرے کی مدد کرو۔ بیماروں کی عیادت کیلئے جاﺅ کوئی مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو۔ کسی پر مصیبت آئے تو اس سے ہمدردی کرو۔ جو غریب محتاج، معذور لوگ ہوں ان کو ڈھانک چھپا کر مدد پہنچاﺅ۔ یتیموں اور بیواﺅں کی خبر گیری کرو، بھوکوں کو کھانا کھلاﺅ، ننگوں کو کپڑے پہناﺅ۔ بے کاروں کو کام پر لگانے میں مدد دو۔ اگر تم کو خدا نے دولت دی ہے تو اس کی صرف اپنے عیش میں نہ اڑا دو۔ چاندی سونے کے برتن استعمال کرنا اور ریشمی لباس پہننا اور اپنے روپے کو فضول تفریحوں، آسائشوں میں ضائع کرنا اسی لیے اسلام میں ممنوع ہے کہ جو دولت ہاروں بندگان خدا کو رزق بہم پہنچا سکتی ہے اسے کوئی شخص صرف اپنے ہی اوپر خرچ نہ کر دے۔ یہ ایک ظلم ہے کہ جس روپے سے بہتوں کے پیٹ پل سکتے ہوں وہ محض ایک زیور کی شکل میں تمہارے جسم پر لٹا رہے، یا ایک برتن کی شکل میں تمہاری میز پر سجا کرے، یا ایک قالین بنا ہوا تمہارے کمرے میں پڑا ہے، یا آتشبازی بن کر آگ میں جل جائے۔ اسلام تم سے تمہاری دولت چھیننا نہیں چاہتا۔ جو کچھ تم نے کمایا ہے یا ورثہ میں پایا ہے اس کے وراثت تم ہی ہو۔ وہ تمہیں اس بات کا پورا حق دیتا ہے کہ اپنی دولت سے لطف اٹھاﺅ، وہ اس کو بھی جائز رکھتا ہے کہ جو نعمت خدا نے تم کو دی ہے اس کا اثر تمہارے لباس اور مکان اور سواری میں ظاہر ہو۔ مگر اس کی تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ تم ایک سادہ اور معتدل زندگی اختیار کرو۔ اپنی ضرورتوں کو حد سے نہ بڑھاﺅ اور اپنے نفس انسانوں کے حقوق کا بھی خیال رکھو۔ ان چھوٹے دائروں سے نکل کر اب بڑے دائرے پر نظر ڈالوں، تمام دنیا کے مسلمانوں پر حاوی ہے۔ اس دائرے میں اسلام نے ایسے قوانین اور ضابطے مقرر کیے ہیں جن میں سے مسلمان ایک دوسرے کی بھلائی میں مدد گار ہوں اور برائیاں رونما ہونے کی صورتیں جہاں تک ممکن ہو پیدا ہو نہ ہونے دی جائیں مثال کے طور پر ان میں سے چند کی طرف ہم یہاں اشارہ کرتے ہیں۔ 1۔قومی اخلاق کی حفاظت کےلئے یہ قاعدہ مقررکیا ہے کہ جن عورتوں اور مردوں کے درمیان حرام رشتے نہیں ہیں وہ ایک دوسرے سے آزدانہ میل جول نہ رکھیں۔ عورتوں کی سوسائٹی الگ رہے اور مردوں کی الگ عورتیں زیادہ تر خانگی زندگی کے فرائض کی طرف متوجہ ہیں۔ اگر ضرورتاً باہر نکلیں تو بناﺅ سنگھار کے ساتھ نہ نکلیں۔ سادہ کپڑے پہن کر آئیں جسم کو اچھی طرح ڈھانکیں۔ چہرہ اور ہاتھ اگر کھولنے کی شدید ضرورت نہ ہو تو ان کو بھی چھپائیں اور اگر واقعی کوئی ضرورت پیش آجائے تو صرف اس کی طرف دیکھنے سے پرہیز کریں۔ اچانک نظر پڑ جائے تو نظر ہٹا لیں۔ دوبارہ دیکھنے کی کوشش کرنا معیوب ہے اور ان سے ملنے کی کوشش معیوب تر۔ ہر مرد اور عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنے اخلاق کی حفاظت کرے اور خدا نے خواہشات نفسائی کو پورا کرنے کیلئے نکاح کا جو دائرہ مقرر کر دیا ہے اس سے باہر نکلنے کی کوشش کیا معنی، خواہش بھی اپنے دل میں پیدا نہ ہونے دیں۔ 2۔ قومی اخلاق ہی کی حفاظت کیلئے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ کوئی مرد گھٹنے اور ناف کے درمیان کا حصہ، اور کوئی عورت چہرے اور ہاتھ کے سوا اپنے جسم کا کوئی حصہ کسی کے سامنے نہ کھولے خواہ وہ اس کا قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو اس کو شریعت کی زبان میں ستر کہتے ہیں اور اس کا چھپانا ناہر مرد اور عورت پر فرض ہے اسلام کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں حیا کا مادہ پیدا ہو اوروہ بے حیائیاں نہ پھیل سکیں جن سے آخر کار بد اخلاقی پیدا ہوتی ہے۔ 3۔ اسلام ایسی تفریحوں اور مشغلوں کو بھی پیدا نہیں کرتا جو اخلاق کو خراب کرنے کیلئے اور بری خواہشات کو ابھارنے والے اور وقت اور صحت اور روپے کو ضائع کرنے والے ہوں۔ تفریح بجائے خود نہایت ضروری چیز ہے، انسان میں زندگی کی روح اور عمل کا طاقت پیدا کرنے کیلئے کام اور محنت کے ساتھ اس کا ہونا بھی لازمی ہے مگر وہ ایسی ہونی چاہیے جو روح کو تازہ کرنے والی ہو نہ کہ اور زیادہ غلیظ اور کثیف بنانے والی۔ بیہودہ تفریحیں جن میں ہزاروں آدمی ایک ساتھ بیٹھ کر جرائم کے فرضی واقعات اور بے شرمی کے نظارے دیکھتے ہیں تمام قوموں کے اخلاق و عادات کو بگاڑنے والی چیزیں ہیں، خواہ بظاہر کیسی ہی خوش نما ہوں۔ 4۔ قومی اتحاد اور فلاح و بہبود کیلئے مسلمانوں کو تاکید کی گئی کہ آپ کی مخالفت سے بچیں۔ فرقہ بندی سے پرویز کریں۔ کسی معاملہ میں اختلاف رائے۔ ہو تو نیک نیتی کے ساتھ قرآن اور حدیث سے اس کا فیصلہ کرنے کی کوشش کریں۔ اگر تصفیہ نہ ہو سکے تو آپ میں لڑنے کے بجائے خدا پر اس کا فیصلہ چھوڑ دیں۔ قومی فلاح و بہبود کے کاموں میں ایک دوسرے کی معاونت کریں۔ اپنی قوم کے سرداروں کی اطاعت کرتے ہیں جھگڑے برپا کرنے والوں سے الگ ہو جائیں اور آپ کی لڑائیوں سے اپنی طاقت کو برباد اور اپنی قوم کو رسوا نہ کریں۔ 5۔ مسلمانوں کو غیر مسلم قوموں سے علوم و فنون حاصل کرنے اور ان کے کار آمد طریقے سیکھنے کی پوری اجازت ہے۔ مگر زندگی میں ان کی نقالی کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ایک قوم دوسری قوم کی نقالی اسی وقت کرتی ہے جب وہ اپنی ذلت اور کمتری تسلیم کرلیتی ہے۔ یہ غلامی کی بدترین قسم ہے، اپنی شکست کا کھلا ہوا اعلان ہے اور اس کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ نقالی کرنیوالی قوم کی تہذیب فنا ہو جاتی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر قوموں کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ یہ بات معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ کسی قوم کی طاقت اس کے لباس یا اس کے طرز زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے علم اور اس کی تنظیم اور اس کی قوت عمل کے سبب سے ہوتی ہے۔ پس اگر طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ چیزیں لوجن سے قومیں طاقت حاصل کرتی ہیں نہ کہ وہ چیزیں جن سے قومیں غلام ہوتی ہیں اور آخر کار دوسروں میں جذب ہو کر اپنی قومی ہستی ہی فنا کر دیتی ہیں۔ غیر مسلموں کے ساتھ برتاﺅ کرنے میں مسلمانوں کو تعصب اور تنگ نظری کی تعلیم نہیں دی گئی ہے ان کے بزرگوں کو برا کہنے یا ان کے مذہب کی توہینکرنے سے منع کیا گیا ہے ان سے خود جھگڑا نکالنے سے بھی روکا گیا ہے۔ وہ اگر ہمارے ساتھ صلح و آشتی رکھیں اور ہمارے حقوق پردست درازی نہ کریں تو ہم کو بھی ان کے ساتھ صلح نہ رکھنے اور دوستی کا برتاﺅ کرنے اور انصاف کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہماری اسلامی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب سے بڑھ کر انسانی ہمدردی اور خوش اخلاقی برتیں۔ کج خلقی اور ظلم و تنگ دلی مسلمان کی شان سے بعید ہے۔ مسلمان دنیا میں اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ حسن اخلاق اورشرافت اور نیکی کا بہترین نمونہ بنے اور اپنے اصولوں سے دلوں کی تسخیر کرے۔
|