|
معاشرتی سلامتی، امداد باہمی و بہبود کا حق مرتبہ: عظمان عمر مغربی قانون کا تصور یورپین سوشل چارٹر کے مطابق:۔
تمام کارکنان اور ان کے زیر کفالت افراد معاشرتی سلامتی کا حق رکھتے ہیں۔ ۲۔ مناسب ذرائع سے محروم کوئی بھی شخص سماجی اور طبی امداد کا حقدار ہے۔ ۳۔ ہرفرد کو حق حاصل ہے کہ وہ معاشرتی بہبود کی خدمات سے بہرہ یاب ہو سکے۔ ۔ معذور افراد کو پیشہ وارانہ تربیت، بحالی اور آباد کاری کا حق ہے قطع نظر اس سے کہ ان کی معذوری کی اصل اور نوعیت کیا ہے؟ ۵۔ معاشرتی سلامتی کو بروئے کار لانے کے حق کو یقینی بنانے کی خاطر شرکائے معاہدہ کو یہ امور ملحوظ رکھنا ہوں گے۔ i۔ معاشرتی سلامتی کے نظام کا قیام اور اس کی بحالی ii۔ معاشرتی سلامتی کے نظام کی بحالی کم از کم اس تسلی بخش سطح پر ہو جو کم از کم انٹرنیشنل لیبر کنونشن میں دئیے گئے کم سے کم معاشرتی سلامتی کے معیار کے برابر ہو۔ iii۔ معاشرتی سلامتی کے نظام کو بتدریج بلند تر معیار پر لانے کیلئے کسی غفلت اور تساہل سے کام نہ لیا جائے۔ iv۔مناسب دو جہتی اور کثیر الجہاتی معاہدات یا دیگر ذرائع کی وساطت سے اور ان معاہدات میں طے شدہ شرائط کی مطابقت سے ایسے اقدامات کرنا جو ان امور کو یقینی بنائیں: (ا) شرکائے معاہدہ ممالک کے شہریوں سے بہ اعتبار معاشرتی سلامتی مساوی سلوک اور اس بارے میں ہونیوالی قانون سازی سے ملنے والے حقوق کی حمایت قطع نظر اس سے کہ شرکائے معاہدہ کے علاقوں کے مابین کسی بھی پیمانے پر بھی نقل و حرکت ہو رہی ہو۔ (ب) معاشرتی سلامتی کے حقوق کی تفویض اور بحالی جو شہریوں کو مختلف ذرائع مثلاً انشورنس یا ہر شریک معاہدہ ملک کے قانون کے مطابق مکمل شدہ عرصہ روز گار کے ذریعے حاصل ہو۔ اسلامی قانون کا تصور قومی وسائل کی مناسبت سے ہر شخص کا خوراک، رہائش، کپڑے، تعلیم اور طبی علاج معالجہ پر حق ہے، ان بنیادی ضرورتوں کی فراہمی کا حق بالخصوص ان افراد کیلئے ہے جو عارضی یا مستقل معذوری کی بنا پر ان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اسلام نے معاشرتی سلامتی اور فلاح و بہبود کا وہ تصور دیا جو فرد اور معاشرے دونوں کے حقوق کا احاطہ کرتا ہے۔ حضور اکرم نے افرادی سطح پر اس حق کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے مومن کی علامت اس امر کو قرار دیا کہ مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے افراد معاشرے کو سلامتی، فلاح اور بہبود پہنچے، جبکہ قومی سطح پر قرآن حکیم کی تعلیمات کے ذریعے ایک ایسے معاشرے کے قیام کی تعلیم دی جو لا خوف علیھم ولا ہم یحزنون کا مظہر ہوا، اور جہاں ہر شخص کو معاشرتی سلامتی اور فلاح و بہبود کا حق عملاً میسر ہو۔ 16۔ فراہمی حقوق کی ابدی ضمانت کا حق مغربی قانون کا تصور مغربی قانون فکر میں حق کا تصور مبہم حیثیت کا حامل ہے۔ انسانی حقوق کی اصطلاح کا اطلاق عام طور پر انسانی زندگی، عزت و وقار اور اس سے متعلق دوسرے تصورات پر کیا جاتا ہے۔ حق کیا ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے معروف مغربی مفکر لکھتا ہے۔ ”عموماً حقوق کا دعویٰ سماجی دائرہ کار کے اندر ہی کیا جاتا ہے۔ حقوق دوسروں کے ساتھ تعلق سے وجود پاتے ہیں اور دعویٰ حقوق بھی معنا دوسروں کے وجود کا اعتراف ہے جہاں پر دعویٰ حقوق تسلیم کیا جاتا ہو اور اس کے نتیجہ میں حقوق حاصل کئے جاتے ہوں گویا انسانی حقوق معاشرے میں کئے جانے والا ایسا دعویٰ ہے جس کا حامل بنی نوع انسان کا ہر فرد ہے اور اس کی تکمیل کیلئے دوسرے تمام انسانوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔ وہ جو حق کے تصور کو غیر مبہم سمجھتے ہیں ان کے نزدیک انسانی حقوق کے وجود کا انحصار انسانی معاشرے کے واضح تصور پر ہے اور حقوق انسانی کی نوعیت و دائرہ کار کا انحصار بھی اس معاشرے کی نوعیت پر ہے۔“ لیوائن کی مندرجہ بالا توضیح کے مطابق مغربی قانون فکر میں انسانی حقوق کا کوئی واضح تصور موجود نہیں بلکہ یہ ایک اضافی حقیقت ہے جو حالات اور انسانی معاشرے کی نوعیت کے مطابق بدل بھی سکتی ہے۔ تصور حق کی فکری بنیاد کے علاوہ مغربی قانون میں انسانی حقوق اپنے قانون ماخذ کے لحاظ سے بھی کوئی مستقل بنیاد نہیں رکھتا۔ مغربی میں معروف قانونی مآخذ درج ذیل ہیں۔ مغری قانون کے متذکرہ بالا مآخذ اس امر کی تصریح کرتے ہیں کہ یہ حق کے تصور، تعریف یا توضیح کے باب میں کوئی واضح اور ٹھوس بنیاد فراہم نہیں کر سکتے۔ چونکہ مغربی قانون میں انسانی حقوق، تصور، تعریف یا قانون کی صحت میں واضح، پائیداد اور بین اساس نہیں رکھتے لہٰذا مغربی قانون اپنے بدلتے معیارات کے سبب افراد معاشرے کو حقوق کی فراہمی کی ابدی ضمانت فراہم نہیں کر سکتا۔ اسلامی قانون کا تصور اسلام کے تفویض کردہ بنیادی حقوق مقدس اور ناقابل فسخ ہیں اس لیے کہ یہ حقوق اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ہیں جنہیں کوئی انسانی حاکمیت کسی عذر کی بناءپر نہ تو پامال کر سکتی ہے نہ ہی ان کیخلاف ورزی کی مرتکب ہو سکتی ہے۔ حضور اکرم نے اس امر کا اعلان فرمایا کہ اگر لوگ اپنے فرائض ادا کرتے رہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کریں، نماز اور روزے وغیرہ کی ادائیگی کا اہتمام کریں تو ان کی زندگیاں اور جائیدادیں (ہمارے حکومت کے تحت) محفوظ ہیں ماسوائے اس کے کہ وہ کسی دوسرے فرد کی زندگی اور جائیداد کے حق کو پامال کریں اور یہ بات ثابت ہو جائے۔ میثاق مدینہ کے آرٹیکل ۶۳ میں یہ قرار دیا گیا: ”جو اسلامی ریاست کے دستورکے ساتھ وفا شعار ہے اور اسلامی ریاست کے قوانین پر عمل کرتے ہوئے نیکی و امن پر کار بند رہے، تو اللہ اور اس کے رسول محمد اس کے محافظ و نگہبان ہیں۔“ اسی مفہوم کی متعدد احادیث نبوی میں جو بلا شبہ اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ زندگی مال و آبرو اور شخصی وقار کے حقوق کو کسی بھی صورت میں پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا ماسوائے اس کے کہ کوئی فرد خود حقوق شکنی کا مرتکب پایا جائے اور اس پر یہ الزام ثابت ہو جائے۔ اس طرح ایک اسلامی ریاست میں حکومت کسی بھی شہری کو اس کے بنیادی حقوق اور شہری آزادیوں سے محروم نہیں کر سکتی سوائے اس کے کہ اس سے قانون شکنی کا جرم سرزد ہو اور منصفانہ مقدمہ کے بعد عدالت اس کے جرم کو ثابت کر دے۔ انسانی حقوق کے احترام کا یہی تصور تھا جس کے پیش نظر حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ مصر کے گورنر عمرو بن العاصؒ کی ایک غریب مصری کی فریاد پر یہ کہتے ہوئے سرزنش کی: ”اے عمرو بن العاصؒ! تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنانا شروع کر دیا ہے حالانکہ ان کی ماﺅں نے تو انہیں آزاد جنا تھا۔“ اس اعتبار سے یہ اسلامی ریاست کا فریضہ ہے کہ وہ صرف شہریوں کے حقوق کا احترام کرے بلکہ اس امر کو یقینی بنائے کہ عمال حکومت میں سے کوئی فرد یا کوئی شہری دوسرے شہریوں کے حقوق کو پامال نہ کر سکے۔ اس طرح خود انصاف کرنا اور حقوق شکنی سے دوسروں کو روکنا اسلامی ریاست کا اولین اور بنیادی فرض ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اسلامی ریاست کا سربراہ بننے کے بعد پہلی تقریر میں اعلان فرمایا: ” اے لوگو! میں تم پر حاکم بنایا گیا ہوں حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں اگر میں اچھے کام کروں تو میری مدد کرنا اور اگر خطا کروں تو مجھے سیدھا کر دینا، سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت، لوگو! تم میں سے جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک طاقتور ہے یہاں تک کہ میں اس کا حق اس واپس دلا دوں اور تم میں سے طاقتور میری نظر میں کمزور ہو گا جب تک کہ انشاءاللہ میں اس سے کسی کا چھینا ہوا حق واپس نہ لے لوں۔“ قرآن و سنت کے عطا کردہ حقوق کو کوئی اسلامی ریاست کسی ہنگامی یا بحرانی حالت میں بھی معطل نہیں کر سکتی۔ عوام، حکومت کی ہر سطح کی پالیسیوں اور منصوبوں پر تنقید کر سکتے ہیں اور یہ تنقید حکومت کو اس امر کا مجاز نہیں بناتی کہ وہ کسی شہری کو نظر بندی اور حراست میں لے یا اس کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائے۔ چونکہ اسلامی ریاست کے شہریوں کے بنیادی حقوق خود اللہ تعالیٰ نے عطا کئے ہیں، سو ان کے نفاذ و تعطل کا فیصلہ بھی کسی دینوی قوت نافذہ کے زیر اثر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ قانون کے تحت ہی ہو گا جس کیخلاف ورزی کے بارے میں قرآن حکیم نہ یہ کڑی و عید سنائی ہے۔ اور جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے متعلق فیصلہ و حکومت نہیں کرتے وہی ظالم ہیں۔ ”اور جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ و حکومت نہیں کرتے وہی لوگ فاسق ہیں۔“ بحث کا ماحصل اسلام اور مغربی قانون میں انسانی حقوق کے تصور کا تقابلی مطالعہ کرتے ہوئے یورپی کنونشن برائے تحفظ حقوق انسانی اور بعض دیگر مغربی قوانین کے متعلقہ پہلوﺅں کا اسلامی قانون سے تقابلی جائزے کے بعد یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مغربی میں مختلف بین الاقوامی اور علاقائی قوانین بالخصوص یورپی کنونشن برائے تحفظ حقوق انسانی ایک مسلسل ارتقائی عمل کے بعد تشکیل دئیے گئے تاکہ انسانی حقوق کا تحفظ ہو سکے جبکہ اسلام میں روز اول سے انسانی حقوق کے احترام سے متعلق تعلیمات دی گئیں اور ریاست مدینہ کے قیام کے ساتھ ہی آئین مدینہ کی شکل میں ان تعلیمات کو ریاستی سطح پر نافذ بھی کیا گیا۔ خلفائے راشدین اور بعد کے ادوار میں اسلامی قانون کے تحت انسانی حقوق کے بہت سے پہلوﺅں کی کار فرمائی آج کے صنعتی اور ترقی یافتہ دور سے بھی بہتر صورت میں نظر آتی ہے۔ بنیادی انسانی کا احترام و نفاذ کے باب میں اسلام کے عطا کردہ اصول قوانین زیادہ جامع، مفصل اور مو ¿ثر ہیں۔ یہی وہ نظام اور ضابطہ حیات ہے جو آج کے تقاضوں اور ضرورتوں کو نہ صرف پورا کر سکتا ہے بلکہ احترام آدمیت اور انسانی فلاح وبہبود کی فراہمی کی زیادہ بہتر ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔
|