|
تعلیم و تربیت کا حق مرتبہ: عظمان عمر یورپی کنونشن برائے تحفظ حقوق انسانی کے مطابق کسی شخص کو تعلیم کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ تعلیم اور درس و تدریس کے فرائض کے باب میں ریاست والدین کے حقوق کا احترام کریگی اور ان کے مذہبی اور فلسفیانہ عقائد و نظریات کے مطابق تعلیمی اور تدریسی فرائض کی ادائیگی کو یقینی بنائیگی۔یورپین سوشل چارٹر بھی تعلیم و تربیت کے حق کو اس طرح بیان کرتا ہے۔
1۔ ہر شخص کا حق ہے کہ اس کے ذاتی میلان اور دلچسپیوں کی مناسبت سے پیشے کے چناﺅ میں مدد دینے کیلئے اسے پیشہ وارانہ طور پر مناسب سہولیات فراہم کی جائیں۔ 2۔ حرفتی پیشہ وارانہ تربیت کیلئے مناسب سہولتوں پر ہر ایک کا حق ہے۔ 3۔ پیشہ وارانہ راہنمائی کے حق کو مو ثر انداز سے بروئے کار لانے کیلئے عوام کو ایسی امداد فراہم کی جائیگی جو ان کیلئے ذہنی یا جسمانی معذوری میں مدد گار ہو اور ان مسائل کو حل کیا جائے جو پیشہ وارانہ انتخاب اور ترقی سے مربوط ہوں۔ یہ مدد نو عمر افراد جن میں سکول کے بچے اور بالغ بھی شامل ہیں کہ بلا معاوضہ دی جائیگی۔ اسلامی قانون کا تصور اسلام میں تعلیم و تربیت کے حق کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ قرآن حکیم کی پہلی وحی کا آغاز حرف اقراءسے ہوا جو تعلیم تربیت حاصل کرنے کی اہمیت کو بیان کرتا ہے، قرآن حکیم کے نازل ہونے والے اس پہلے حکم کے مطابق اسلام میں تعلیم و تربیت حاصل کرنا حق نہیں بلکہ فرض ہے۔ اسلامی ریاست اس امر کی پابند ہے کہ وہ شہریوں کو وہ تمام سہولتیں فراہم کرے جو ان کی تعلیم و تربیت کیلئے ضروری ہے۔ اسی طرح: 1۔ ہر شخص اپنی فطری صلاحیتوں اور قابلیتوں کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا حقدار ہے۔ 2۔ ہر شخص اپنے پیشے اور مستقبل کے مشاغل منتخب کرنے کا آزادانہ حق رکھتا ہے۔ اسے اپنی فطری صلاحیتوں کے جوہر کے بھر پور اظہار کا موقع دیا جائے۔ اسلام اور مغربی قانون کے تصورات کے تقابلی مطالبہ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مغربی قانون نے تعلیم و تربیت کے حق کا جو اعتراف دور حاضر میں کیا گیا ہے،اسلام نے صدیوں قبل اپنی وحی کے آغاز سے ہی اس کی بنیاد رکھ دی تھی۔ 10 ۔ نقل و حرکت اور رہائش کی آزادی کا حق مغربی قانون کا تصور یورپین کمیشن برائے تحفظ حقوق انسانی کا چوتھا یورپی پروٹوکول 1963ءمیں منظور ہوا اور 1964ءمیں اس پر عمل درآمد ہوا۔ 1۔ ہر شخص جو ایک ریاست کی علاقائی حدود میں بطور قانونی شہری رہائش پذیر ہے اسے حق اور آزادی حاصل ہے کہ جہاں چاہے نقل مکانی کرے اور جائے سکونت اختیار کرے۔ 2۔ ہر شخص بشمول اپنے ملک کسی ملک کو چھوڑنے کیلئے آزادا ہو گا۔ 3۔ سوائے اس پابندی کے جو قانون کے مطابق ہو اور ضروری ہو جیسا کہ کسی جمہوری معاشرے میں قومی سلامتی، اجتماعی حفاظت اور عوامی امن و امان کی بحالی کیلئے، جرائم کی روک تھام، صحت اور اخلاق کی حفاظت اور دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کی حفاظت کےلئے ضروری ہے کہ اسی کے ان حقوق پر کوئی پابندیاں نہیں لگائی جائیگی۔ 4۔ وہ حقوق جو پیرا گراف نمبر 1 میں درج ہیں بعض مخصوص علاقوں میں ان پابندیوں کے تابع ہیں جو قانون کے مطابق ایک جمہوری معاشرے میں عوامی مفاد کے پیش نظر لگائی جائیں۔ یورپین کمیشن برائے تحفظ حقوق انسانی کے آرٹیکل 3 کے مطابق: 1۔ کسی شخص کو انفرادی یا اجتماعی اقدام کے نتیجے میں اس ریاست کی حدود سے جس کا وہ شہری ہے ملک بدر نہیں کیا جائیگا۔ 2۔ کوئی شخص اس ریاست کی حدود میں داخلے میں نہیں روکا جائے گا جس کا وہ شہری ہے۔ 3۔ غیر ملکیوں کا اجتماعی اخراج ممنوع ہے۔ یورپین سوشل چارٹر میں اس حوالے سے کئے گئے متعلقہ اقدامات یہ ہیں: 1۔ شریک معاہدہ ممالک کے شہریوں میں سے کسی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ کسی دوسری ریاست کے علاقے میں ان کے اپنے شہریوں سے برابری کی بنیاد پر منافع بخش پیشہ اختیار کریں جہاں وہ ان پابندیوں کے تابع ہوں گے جو معقول اقتصادی اور سماجی وجود کی بنیاد پر لگائی جائیں۔ 2۔ کسی بھی شریک معاہدہ ملک کے علاقے میں منافع بخش کاروبار کے حق پر عمل درآمد کیلئے شریک معاہدہ ممالک درج ذیل اقدامات کریں گے: i۔(جوابدہی کے احساس کے ساتھ) موجودہ ضابطوں کا اطلاق کرنا۔ ii۔ موجودہ طریق کار کو سہل اور آسان بناتے ہوئے واجبات اور دیگر چارجز کو جو غیر ملکی کارکنوں یا ان کے مالکوں سے واجب الادا ہیں کو کم یا ختم کرنا۔ iii۔ان ضابطوں میں جو غیر ملکی کارکنوں کی طریق ملازمت سے متعلق ہیں انفرادی یا اجتماعی طور پر مزید وسعت اور کشادگی پیدا کرنا۔ iv۔ ان کی ملکی شہریوں کو ملک چھوڑ کر معاہدے میں شریک ملکوں کے علاقوں میں جا کر منافع بخش پیشہ اختیار کرنے کا حق دینا۔ ۔ تارکین وطن کارکنان جو شریک معاہدہ ملک کے قومی شہری ہیں انہیں اور ان کے اہل و عیال کو حق دیا جائے کہ معاہدے میں شریک دوسرے ملک کی حفاظت اور مدد حاصل کر سکیں۔ تارکین وطن کارکنان اور ان کے اہل و عیال کو شریک معاہدہ ملک کے علاقے میں تحفظ اور مدد کے حق کو تحفظ بنانے کی خاطر شرکائے معاہدہ درج ذیل اقدامات کا عہد کرتے ہیں: i۔اس امر کی تسلی کرنا کہ ایسے کارکنوں کی مدد اور بالخصوص درست خبریں حاصل کرنے کیلئے انہیں مسلسل بلا معاوضہ خدمات مہیا کی جا رہی ہیں، اور جہاں تک قوانین و ضوابط اجازت دیں وہ تمام مناسب اقدامات کئے جا رہے ہیں جن سے مہاجرت اور ترک وطن کے بارے میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کا توڑ کیا جا سکے۔ ii۔ان کے اپنے حلقہ احتیار میں ایسے مناسب اقدامات اٹھانا جن سے ان کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کی روانگی، سفر اور استقبال میں آسانیاں پیدا کی جائیں اور ان کے اپنے دائرہ کار میں صحت، طبی علاج کی مناسب خدمات اور دوران سفر حفظان صحت کے اچھے حالات مہیا کئے جائیں۔ iii۔سماجی خدمات کے مابین نجی اور سرکاری سطح پر مناسب تعاون کی فضا کو فروغ دینا ان ملکوں میں جن کے درمیان نقل مکانی اور ہجرت کا سلسلہ جاری ہے۔ iv۔ان علاقوں میں ایسے کارکنوں کے ساتھ باضابطہ طور پر جہاں تک وہ معاملات قوانین و ضوابط کے دائرے اور انتظامی حکام کے کنٹرول میں ہوں ایسا سلوک کرنا جو ان کے قومی شہریوں سے درج ذیل معاملات میں کم خوشگوار نہ ہو۔ (ا) صلہ و معاوضہ اور دیگر روز گار کے مواقع اور حالات کار فراہم کرنا۔ (ب) ٹریڈ یونینوں کی رکنیت سازی اور اجتماعی کاوشوں کو ثمرات سے بہرہ یاب کرنا۔ (ج) رہائش مہیا کرنا۔ v۔ ایسے کارکنان کیلئے جو ان علاقوں میں قانونی طور پر مقیم ہیں ان کے قومی شہریوں کے ملازمین میں روزگار ٹیکس، واجبات اور دیگر واجب الادا محصولات مراعات کے معاملے میں کم تر خوشگوار روانہ رکھنا۔ vi۔ جہاں تک ممکن ہو غیر ملکی کارکنوں کے اہل خانہ کے ساتھ دوبارہ ملنے کیلئے سہولتیں بہم پہنچانا جنہیں اس علاقے میں رہنے کا اجازت نامہ حاصل ہے۔ (اس مقصد کےلئے ”غیر ملکی کارکن کے اہل خانہ“ سے مراد کم از کم اس کی بیوی اور ۱۲ سال سے کم زیر کفالت بچے ہیں)۔ vii۔ان علاقوں کے غیر ملکی کارکنوں کیلئے ان کے قومی شہریوں کے ہم پلہ ایسے معاملات میں جن کا حوالہ اس آرٹیکل میں دیا گیا ہے قانونی کارروائیوں کے سلسلے میں برابری کا سلوک حاصل کرنا۔ viii۔ایسے کارکنوں کو یہ اجازت دلانا کہ قانونی حدود کے اندر اپنی کمائیوں اور بچتوں کا وہ حصہ جس کے وہ خواہشمند ہوں منتقل کر سکیں۔ ix۔اس بات کا تحفظ کہ ایسے کارکن جو ان علاقوں کے قانونی باسی ہوں انہیں ملک بدر نہ کیا جائے جب تک وہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ نہ بنیں یا عوامی مفاد یا اخلاقیات کے منافی حرکت کے مرتکب ہوں۔ x۔اس حفاظت اور مدد، جو یہ آرٹیکل مہیا کرتا ہے، کا دائرہ کار خود روزگار تارکین وطن تک بڑھانا تاکہ ان پر ان اقدامات کا اطلاق ہو سکے۔
عالم اسلام اخوت باہمی پر مبنی امت ہے ہر مسلمان کو حسب قانون آزادانہ نقل و حرکت اور رہائش کا حق حاصل ہے چونکہ ہر مسلمان کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ آزادانہ کسی ملک کے اندر اور باہر آجا سکے۔ 2۔کسی بھی فرد کو زبردستی اپنی جائے رہائش سے بے دخل اورملک بدر نہ کیا جائے اور نہ ہی قانون کی طرف رجوع کئے یکطرفہ طور پر ترک وطن پر مجبور کیا جائے۔ مغربی قانون نے آزادانہ نقل و حرکت اور رہائش کے حق کو 1950ءتا 1961ءمیں اختیار کیا تاکہ متعلقہ ملک کے افراد کو مزید بہتر زندگی کے مواقع میسر آسکیں۔ مگر اسلام نے ان اقدامات کا آغاز ایک ایسی وسیع بنیاد پر ۰۰۴۱ سال قبل کر دیا تھا جس کی نظیر تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ ہماری مراد نوزائیدہ مملکت مدینہ میں مواخلت کا قیام تھا۔ جس کے تحت نہ صرف اس ریاست میں ہر شہری کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آزادانہ نقل و حرکت ، روزگار، رہائش کا حق دیا گیا بلکہ ہر صاحب حیثیت فرد معاشرہ کے کمزور حیثیت کے افراد کو اپنے اموال کاروبار اور رہائشوں میں برابر کا شریک کر لیا تھا۔ جائے پناہ و دار الامان کا حق مغربی قانون کا تصور یہ امر قابل ذکر ہے کہ یورپین کنونشن برائے تحفظ حقوق انسانی پناہ اور امان طلبی کے حق کے بارے میں خاموش ہے گو متعلقہ یورپی ممالک کے عمومی اصولوں کیروشنی میں اس حق کو تسلیم کرتے ہیں 1966ءمیں اس موضوع پر کوئی واضح قانونی شق نہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اسلامی قانون کا نقطہ نظر گزشتہ چودہ صدیوں میں ممتاز حد تک ترقی پسندانہ رہا ہے کہ اس کی رو سے نہ صرف یہ کہ انسانوں کے حق اماں طلبی کو تسلیم کیا گیا ہے بلکہ یہ حق عملی طور پر دیا بھی گیا ہے جو کہ اگر ایک مسلمان عورت نے بھی کسی کو امان دے دی تو اسے ریاستی سطح پر تسلیم کیا گیا۔
۱۔ ہر وہ شخص جو ظلم و جبر اور تشدد کا نشانہ مشق بنایا جائے اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ امان اور پناہ کا طالب ہو۔ ہر فرد کونسل، مذہب، رنگ اور جنس سے قطع نظر اس حق کی ضمانت دی جاتی ہے۔ ۲۔ مسجد الحرام (خدا کا مقدس گھر) تمام مسلمانوں کیلئے جائے امان اور پناہ گاہ ہے۔ 12۔ اجتماعی معاملات میں عوامی شرکت کا حق مغربی قانون کا تصور ۱۔ یورپین کنونشن برائے تحفظ حقوق انسانی کے پہلے پروٹوکول کے آرٹیکل 3 کے مطابق معاہدے کے اعلیٰ فریق معقول سے خفیہ رائے شماری کے ذریعے آزادانہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری ان شرائط کے تحت قبول کرتے ہیں کہ جو مجلس قانون ساز کے چناﺅ میں لوگوں کے آزادانہ اظہار رائے کو یقینی بنا دیں۔ ۲۔ یورپین کنونشن برائے تحفظ حقوق انسانی کے آرٹیکل 16 کے مطابق آرٹیکل 11,10 اور 14 میں مذکور کسی بات سے یہ نہیں سمجھا جائیگا کہ معاہدے میں شریک ارباب اقتدار کو غیر ملکیوں کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد سے منع کیا گیا ہے۔ ۔ قانون کے تابع رہتے ہوئے امت کا ہر فرد عوامی عہدے پر تعینات کئے جانے کا حق رکھتا ہے۔ ۲۔ آزادانہ مشاورت (شوریٰ) کا عمل حکومت اور لوگوں کے مابین انتظامی تعلق اور رابطے کی بنیاد ہے۔ اس اصول کی رو سے لوگوں کو اپنے حکمرانوں کو منتخب کرنے اور اقتدار سے ہٹانے کا بھی اختیار ہے۔ 13۔ اجتماعی اور تنظیم کے قیام کا حق مغربی قانون کا تصور یورپین کنونشن برائے تحفظ حقوق انسانی کے آرٹیکل 11 کے مطابق: ۱۔ ہر شخص کو پر امن اجتماع اور دوسروں سے مل کر ایسوسی ایشن بنانے کا حق ہے جس میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ٹریڈ یونین بنانے اور اس میں شامل ہونے کا حق بھی شامل ہے۔ ۲۔ ان حقوق کو روبہ عمل لانے کی راہ میں کوئی پابندیاں نافذ نہیں کی جائیں گی سوائے ان کی جو ضروری ہوں اور ایک جمہوری معاشرے میں جرائم یا بدامنی کی روک تھام، صحت یا اخلاق کے تحفظ اور دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کو محفوظ کرنے کیلئے ازروے قانون عائد کی گئی ہوں۔ یہ آرٹیکل مسلح افواج، پولیس یا ریاست کی انتظامیہ کے اراکین کو ان حقوق کی بجا آوری کی راہ میں کوئی پابندیاں عائد کرنے سے نہیں روکے گا۔ ۔ ہر شخص انفرادی اورا جتماعی حیثیت سے مذہبی، معاشرتی، ثقافتی اور سیاسی زندگی میں حصہ لینے کا حق رکھتا ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کےلئے ایسے ادارے قائم کرے جونیکی کی تلقین اور برائی سے منع کرنے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں جسے، امر بالمعروف، اور، نہی عن المنکر، سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ۲۔ ہر شخص کا حق ہے کہ وہ ایسے اداروں کے قیام کیلئے کوشاں ہو جن سے ان حقوق سے استفادہ کرنا ممکن ہو، من حیث المجموعی معاشرہ ایسے حالات پیدا کرنے کا پابند ہے جو افراد کو اس قابل بنائے کہ وہ اپنی شخصیتوں سے بھر پورف ائدہ اٹھا سکیں۔ 14۔ جائیداد اور ملکیت کا حق مغربی قانون کا تصور یورپین کنونشن برائے تحفظ حقوق انسانی کے پہلے پروٹوکول کے مطابق ہر شہری فطری اور قانونی طور پر اپنے مملوک اسباب اور مال و متاع سے پر امن طور پر محظوظ ہونے کا حق رکھتا ہے کسی کو اپنے اسباب اور مال و متاع سے محروم نہیں کیا جائیگا سوائے عوامی مفاد کے ان حالات میں جن کو قانون میں طے کیا گیا ہے اور وہ بین الاقوامی قانون کے عمومی اصولوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔ تاہم قانون کی یہ شقیں جن کا ذکر گزر چکا ہے کسی طور ریاست کے اس حق میں حارج نہیں ہوں گی کہ وہ نظریہ ضرورت کے تحت کسی ایسے قانون کا نفاذ عمل میں لا سکے جو عمومی مفاد کے پیش نظر کسی جائیداد کے استعمال کے کنٹرول کیلئے ضروری ہو اور جس سے ٹیکس واجبات، محصولات اور دیگر چنگی محصول یا تاوان وغیرہ کی ادائیگیوں کو محفوظ کیا جا سکے۔ ۲۔ معاشرے کے تمام افراد قانون کے مطابق اپنی روزی کمانے کے حقدار ہیں۔ ۳۔ ہر فرد کا حق ہے کہ وہ اپنی جائیداد کو انفرادی طور پر یا دوسروں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے اپنے قبضے میں لائے تاہم مجموعی عوامی مفاد میں ریاست جائز طور پر بعض اقتصادی وسائل پر قابض ہو سکتی ہے۔ ۴۔ غرباءاور محروم المعیشت لوگوں کا امیروں کی دولت کے ایک حصے پر جسے زکوٰة کی صورت میں مقررہ شرح سے لاگو کیا گیا اور قانون کے مطابق اکٹھا کیا ہو حق ہے۔ ۵۔ تمام ذرائع پیدا وار امت کے مجموعی مفاد کیلئے زیر تصرف لائے جائیں گے، ان کو استعمال کرنے میں نہ تو غفلت اور تساہل روا رکھا جائے اور نہ ہی ان کا بے جا استعمال کیا جائے۔ ۶ ۔ ایک متوازن معیشت کی ترقی کے فروغ اور معاشرے کو استحصال سے محفوظ رکھنے کیلئے قانون اسلامی اجارہ داریوں، غیر معقول مانع ترقی تجارتی پالیسیوں، سودی لین، دین، معاہدہ سازی میں جبر و زبردستی اور گمراہ کن اشتہارات و پروپیگنڈے کی اشاعت کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ ۷۔ تمام معاشی سرگرمیوں کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ عامہ الناس کے مفادات کے منافی نہ ہو اور اسلامی قوانین اور اقدار کی خلاف ورزی نہ کرتی ہوں۔
|