تصاویر

Login

Online Users

None



فضائل اعمال PDF Print E-mail
اسلامیات
Tuesday, 03 November 2009 21:02

حضرت بلال کا حضور کیلئے ایک مشرک سے قرض لینا

تحریر : مولانا محمد زکریا مرحوم

حضرت بلال سے ایک صاحب نے پوچھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اخراجات کی کیا صورت ہوتی تھی۔ حضرت بلال نے فرمایا کہ حضور کچھ جمع تو رہتا ہی نہیں تھا یہ خدمت میرے سپرد تھی جسکی صورت یہ تھی کہ کوئی مسلمان بھوکا آتا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ارشاد فرما دیتے ہیں کہیں سے قرض لے کر اس کو کھانا کھلا دیتا کوئی ننگا آتا مجھے ارشاد فرما دیتے میں کسی سے قرض لیکر اس کو کپڑا پہنا دیتا۔ یہ صورت ہوتی رہتی تھی ایک مرتبہ ایک مشرک مجھے ملا اس نے مجھ سے کہا کہ مجھے وسعت اور ثروت حاصل ہے تو کسی سے قرض نہ لیا کہ جب ضرورت ہوا کرے مجھ ہی سے قرض لے لیا کر۔ میںنے کہا اس سے بہتر کیا ہو گا۔ اس سے قرض لینا شروع کر دیا جب ارشاد عالی ہوتا اس سے قرض لے آیا کرتا اور ارشاد والا کی تعمیل کر دیتا ایک مرتبہ وضو کر کے اذان کہنے کے لئے کھڑا ہی ہوا تھا کہ وہی مشرک ایک جماعت کے ساتھ آیا اور کہنے لگا او حبشی ! میں ادھر متوجہ ہوا تو ایک دم بے تحاشا گالیاں دینے لگا اور برا بھلا جو منہ میں آیا کہا اور کہنے لگا کہ مہینہ ختم ہونے میں کتنے دن باقی ہیں میں نے کہا کہ قریب ختم کے ہے کہنے لگا کہ چار دن باقی ہیں اگر مہینہ کے ختم تک میرا سب قرضہ ادا نہ کیا تو تجھے اپنے قرضہ میں غلام بناﺅںگا اسی طرح بکریاں چراتا پھریگا جیسا پہلے تھا یہ کہہ کر چلا گیا۔ مجھ پر دن بھر جو گزرنا چاہئے تھا وہی گزرا تمام دن رنج و صدمہ سوار رہا اور نہ آپ کے پاس اس وقت ادا کرنے کو فوری انتظام ہے اور نہ کھڑے کھڑے میں کوئی انتظام کر سکتا ہوں وہ ذلیل کریگا اس لئے اگر اجازت ہوت و اتنے قرض اترنے کا انتظام ہو میں کہیںروپوش ہو جاﺅں۔ جب آپ کے پاس کہیں سے کچھ آجائے گا میں حاضر ہو جاﺅںگا یہ عرض کر کے میں گھر آیا، تلوار لی، ڈھال اٹھائی، جوتا اٹھایا یہ ہی سامان سفر تھا اور صبح ہونے کا انتظار کرتا رہا کہ صبح کے قریب کہیں چلا جاﺅں گا صبح قریب ہی تھی کہ ایک صاحب دوڑے ہوئے آئے کہ حضور کی خدمت میں جلدی چلو میں حاضر خدمت ہوا تو دیکھا کہ چار اونٹنیاں جن پر سامان لدا ہوا تھا بیٹھی ہیں حضور نے فرمایا خوشی کی بات سناﺅں کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے قرضہ کی بے باقی کاانتظام فرما دیا۔ یہ اونٹنیاں بھی تیرے حوالے اور ان کا سب سامان بھی فدک کے رئیس نے یہ نذرانہ مجھے بھیجا ہے میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور خوشی ان کو لےکر گیا اور سارا قرضہ ادا کر کے واپس آیا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اتنے مسجد میں انتظار فرماتے رہے میں نے واپس آکر عرض کیا کہ حضور اللہ کا شکریہ ہے حق تعالیٰ نے سارے قرضہ سے آپ کو سکبدوش کر دیا اور اب کوئی چیز بھی قرضہ کی باقی نہیں رہی حضور نے دریافت فرمایا کہ سامان میں سے بھی کچھ باقی ہے میں نے عرض کیا کہ جی ہاں کچھ باقی ہے حضور نے فرمایا کہ اسے بھی تقسیم ہی کر دے تاکہ مجھے راحت ہو جائے میں گھر میں بھی اس وقت تک نہیں جانے کا جب تک یہ تقسیم نہ ہو جائے تمام دن گزر جانے کے بعد عشاءکی نماز سے فراغت پر حضور نے دریافت فرمایا کہ وہ بچا ہوا مال تقسیم ہو گیا یا نہیں میں نے عرض کیا کہ کچھ موجود ہے ضرورت مند آئے نہیں تو حضور نے مسجد ہی میں آرام فرمایا۔ دوسرے دن عشاءکے بعد پھر حضور نے فرمایا کہو جی کچھ ہے میں نے عرض کیا کہ اللہ جل شانہ نے آپ کو راحت عطا فرمائی کہ وہ سب نمٹ گیا حضور نے اللہ جل جلالہ کی حمد و ثناءفرمائی۔ حضور کو یہ ڈر ہوا کہ خدانخواستہ موت آجائے اور کچھ حصہ مال کا آپ کی ملک میں رہے اس کے بعد گھروں میں تشریف لے گئے اور بیویوں سے ملے اللہ والوں کی یہ بھی خواہش رہتی ہے کہ ان کی ملک میں مال و متاع کچھ نہ رہے پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا تو کیا پوچھنا جو سارے نبیوں کے سردار سارے اولیا کے سرتاج، حضور کو اس کی خواہش کیوں نہ ہوتی کہ میں دنیا سے بالکل فارغ ہو جاﺅں میں نے معتبر ذرائع سے سنا ہے کہ حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائپوری نور اللہ مرقدہ کا یہ معمول تھا کہ جب نذرانوں کی رقم کچھ جمع ہو جاتی تو اہتمام سے منگوا کر سب تقسیم فرما دیتے اور وصال سے قبل تو اپنے پہننے کے کپڑے وغیرہ بھی اپنے خادم خاص حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب کو دے دئیے تھے اور فرمایا تھا کہ بس اب تم سے مستعار لے کر پہن لیا کروں گا اور اپنے والدہ صاحب  کو میں نے بارہا دیکھا کہ مغرب کے بعد جو کوئی روپیہ پاس ہوتا وہ کسی قرض خواہ کو دیدیتے کہ کئی ہزار کے مقروض تھے اور یہ فرمایا کرتے کہ یہ جھگڑے کی چیز میں رات کو اپنے پاس نہیں رکھتا اس نوع کے بہت سے حالات اکابر کے ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر شیخ کا ایک ہی رنگ ہو۔ مشائخ کے الوان مختلف ہوتے ہیں اور چمن کے پھولوں میں ہر پھول کی صورت سیرت ممتاز ہوتی ہے۔

 

 

 

Add New
Comments
Write comment
Name:
Email:  
Website:
Title:
UBBCode:
[b] [i] [u] [url] [quote] [code] [img] 
 
:angry::0:confused::cheer:B):evil::silly::dry::lol::kiss::D:pinch::(:shock::X:side::):P:unsure::woohoo::huh::whistle:;):s:!::?::idea::arrow:
 
Please input the anti-spam code that you can read in the image.